شعبۂ فقہ و قانون کا فلسفہ تمہید
شعبۂ فقہ و قانون کا فلسفہ، بیرونی نگاہ کے ساتھ، فقہ اور قانون کے مطالعے کا ذمہ دار ہے اور ان سوالات کا جواب دیتا ہے جو علم فقہ اور اسلامی قوانین کی روش، اصولوں، مآخذ، مقاصد و اہداف وغیرہ کے بارے میں پوچھے جاتے ہیں۔ 

مقاصد 
اس شعبے کے اہم ترین اہداف و مقاصد کچھ یوں ہیں: 
   1۔ فقہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور اس کو مختلف فردی اور سماجی شعبوں میں فروغ دینے کی غرض سے، علم فقہ کے نظری دائروں کی تشریح اور اصلاح۔ 
   2۔ اسلام کے قانون نظام کی تشریح اور تشکیل اور دوسرے قانونی نظامات کی نسبت اس کی فوقیت اور برتری ثابت کرکے دکھانا۔ 
   3۔ معاصر انسان کی ضروریات اور سوالات کا جواب دینے کی غرض سے فقہ کے مؤثر اور کارآمد نمونے (Models) پیش کرنا۔ 
   4۔ فقہی و قانونی تعلیمات کے معقول تجزیات کی فراہمی۔
   5۔ اسلامی جمہوری نظام کے اصولوں کی تشریح اور ضروریات کا جواب دینا۔ 
   6۔ اسلامی جمہوری نظام کے فقہی فلسفے اور قانونی فلسفے کی قلتوں، ضرورتوں، کمزوریوں اور مشکلات کا سراغ لگانا۔ 
   7۔ اسلامی فقہ و قانون کے استنباط کے اصولوں، مآخذ، قلمرو اور دائرہ کار، اہداف و مقاصد، تاریخ اور روشوں کی اصلاح اور تشریح۔
   8۔ مذکورہ بالا موضوعات کے سلسلے میں اسلامی فقہ اور قانون کو درپیش چیلنجوں اور سوالات کی شناخت اور انہیں عالمانہ انداز سے جواب دینے کی کوشش۔ 
   9۔ استنباط کے سلسلے کے احتیاجات و ضروریات کو فلسفۂ فقہ کی حدود میں منتقل کرنا اور انہیں فلسفۂ فقہ کے سانچے اور صورت کے موضوعات میں تبدیل کرنا۔ 
   10۔ فلسفۂ فقہ کے باریک بینانہ موضوعات و مباحث کو محض علمی دائرے سے خارج کرکے اطلاقی اور عملی موضوعات میں بدلنا۔ 
   11۔ فلسفۂ کو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے اپنی ماہیت اور کردار کے دائرے میں فروغ اور ترقی دینا جس کا ہدف نئے پیش آمدہ مسائل کے استنباط کی ضروریات پورا کرنا ہوگا۔ 
   12۔ فلسفۂ فقہ اور فلسفۂ قانون اسلامی کے میدان میں نظریہ پردازی اور کے فروغ کے لئے ضروری ماحول سازی کرنا۔ 

فرائض
مذکورہ مقاصد کے حصول کے سلسلے میں، اس شعبے کی ذمہ داریاں حسب ذیل ہیں:
   1۔ ذیل کے موضوعات میں مطالعات و تحقیقات اور تحقیقی منصوبوں کا نفاذ:
•    اسلامی فقہ اور قانون کی تاریخ، فلسفہ اور اصول؛
•    فقہی اور قانونی فلسفے کے نئے موضوعات، بالخصوص اسلامی جمہوری نظام کی ضرورت کے موضوعات؛
•    فقہی اور قانونی فلسفے کے قدیم موضوعات، خاص طور وہ موضوعات جن کی اسلامی جمہوری نظام کے لئے ضرورت ہے؛
•    فقہی اور قانونی فلسفے کے قدیم موضوعات جو کسی وجہ سے نظرثانی کے محتاج ہیں، بالخصوص ان موضوعات میں جن کی اسلامی جمہوری نظام کو ضرورت ہے؛
•    اسلام کا قانونی نظام [اور نظام عدل]، دیگر قانونی نظامات کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ؛
•    کارآمد فقہی اور قانونی نمونے اور نظریات؛ 
   2۔ فلسفۂ احکام سے متعلق شبہات و اعتراضات کی شناخت اور مخاطَبین کے اذہان کو مطمئن کرنے کے لئے معقول اور منطقی تجزیئے فراہم کرنا؛
 3۔ اسلامی جمہوری نظام کے فقہی اور قانونی فلسفے کی قلتوں، ضرورتوں، کمزوریوں اور مشکلات کا سراغ لگانا؛
 4۔ اطلاعات و معلومات فراہم کرنے کے مجموعات کی فراہمی (ماخذ شناسی [و کتابیات]، قاموس، معجم وغیرہ)؛ 
 5۔ علمی اجلاسوں، نشستوں، ورکشاپوں اور مکالمات کا انعقاد اور مطالعے و تحقیق کے مواقع فراہم کرکے شعبے کے محققین کی علمیت اور صلاحیتوں کی توسیع و تقویت کا اہتمام کرنا؛
 6۔ باصلاحیت محققین اور صاحب رائے ماہرین کو شناخت کرکے ان کی خدمات حاصل کرنا اور حوزہ علمیہ میں فلسفۂ فقہ و قاون کے ماہرین کی نشوونما اور ترقی کی غرض سے ان کی پشت پناہی کرنا؛ 
 7۔ حوزات علمیہ کو فلسفۂ اسلامی فقہ و اسلامی قانون کے میدان میں اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو درپیش جدید زمانے کے چیلنجوں کے جوابات کے سلسلے میں معلومات فراہم کرنا؛
 8۔ شعبے اور متعلقہ مرکز کے مقاصد و اہداف کو آگے بڑھانے کی غرض سے علمی تحقیقی اور انتظامی اداروں، انسٹی ٹیوٹس اور مراکز کے ساتھ تعلق اور تعاون؛
 9۔ دوسرے تحقیقی اداروں نیز اس تحقیقی مرکز کے ذیلی شعبوں کے ساتھ فعال اور تعمیری تعلقات استوار کرنا مشترکہ منصوبے لاگو کرنا اور متوازی اور تکراری کاموں کا سد باب کرنا۔

تحقیقی دائرہ کار
شعبۂ فلسفۂ فقہ و قانون ذیل کے موضوعات کے دائرے میں تحقیق کرتا ہے:
   1۔ معاشرے کی سطح پر للکارنے والے ان تمام مسائل بالخصوص دینی حکومت کے بنیادی مسائل کے بارے میں تحقیق اور مطالعہ جو فقہی فلسفے کے پہلو کے حامل ہیں، اسلامی فقہ و قانون کے شعبے کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ 
   2۔ فقہ سے متعلق علوم (یعنی کلام، قانون، اخلاقیات وغیرہ) کے ان مسائل کی تشریح، تردید اور اثبات کا کام، ـ جو اپنی اثرگذاری کے تناظر میں، فقہ کی حدود میں غور و فکر کے محتاج ہیں، ـ اس شعبے کے دائرے میں آتا ہے۔ 
   3۔ بعض فقہی اور مذہبی احکام کا فلسفہ بیان کرنے کی ضرورت کی بنا پر بھی اور اس تحقیقی مرکز میں مستقل اور علیحدہ شعبے کی عدم موجودگی کی بنا پر بھی، موجودہ حالات میں، فلسفۂ احکام سے متعلق مسائل، وقتی طور پر اس شعبے کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ 
   4۔ فلسفۂ علم (Philosophy of Science) کے بارے میں تحقیق مستقل طور پر اس شعبے کے دائرہ کار میں نہیں آتا، لیکن اس کے اصلی اور بنیادی محوروں سے آگہی کی خاصر مطالعہ، مشاورت اور علمی نشستوں کا انعقاد اور اسلامی فقہ اور اسلامی قانون پر اس کی تطبیق، اس شعبے کے دائرے میں آتی ہے۔
 
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID