فلسفہ و کلام انسٹی ٹیوٹ 

اجمالی تعارف 
اسلامی علوم و ثقافت اکیڈمی سے وابستہ اسلامی فقہ و کلام انسٹی ٹیوٹ کی تاسیس، سنہ 1994ع‍ میں، عقلی اور نقلی نقطۂ نظر سے اسلام کی نظری تعلیمات و اعتقادات کی تشریح و تعارف، فلسفی اور کلامی میراث کی شناخت اور بحالی اور فکری شبہات و سوالات کا جواب دینے کی غرض سے عمل میں آئی۔ 
اس انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ برسوں میں عصر حاضر کے فکری موضوعات کے اہتمام کے ساتھ ساتھ، اسلامی علوم کے میدان میں جدید تحقیقاتی روشوں سے استفادہ کرتے ہوئے، بنیادی مطالعات کو پرثمر اور بےنیاز بنانے کی غرض سے، "نفس اور بدن کا تعلق" اور "شیعہ متکلمین کا کلامی فکر نامہ" جیسے کئی کلاں منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے۔ 
نیز "فلسفۂ اخلاق" اور "فلسفۂ نفس" جیسے اہم فکری اور قابل نفاذ اطلاقی اور ضروری شعبوں، اور "دین و عقل"، "دین اور لسانیات" جیسے شعبوں میں تقابلی مطالعات کی انجام دہی اس انسٹی ٹیوٹ کے نمایاں پروگراموں میں شامل ہے۔ 
رقیب افکار کے فعال تر مقابلے کے لئے فلسفۂ اسلامی کا جائزہ لینے اور اسے مستعد بنانے، سماجی و سیاسی ضروریات کے ساتھ اس کا ربط و تعلق قائم کرنے نیز شیعہ علمِ کلام کو زمانۂ حال کے مطابق بنانے جیسے پروگرام اس انسٹی ٹیوٹ کے حال اور مستقبل کا مطمع نظر ہیں۔ 

مقاصد
فلسفہ اور کلام اسلامی کو مستعد بنانے اور فردی اور سماجی مسائل کا جواب دینے کی غرض سے ان کے اصولوں اور نظری دائروں کی تخلیق، تشریح اور تنقیح؛
اسلام کے نظری عقائد و تعلیمات کی شناخت اور منضبط انداز سے تخلیق و تشریح؛ 
اسلامی تعلیمات و عقائد کا معقول اورمنطقی دفاع اور فلسفی و کلامی شبہات کا جواب؛ 
اسلامی عقائد و تعلیمات کے بیان میں جدت لانا اور انہیں معاشرے کی مختلف فکری سطوح کے تناسب سے فہم پذیر بنانا۔  

تحقیقاتی شعبے
حال حاضر میں اس انسٹی ٹیوٹ کے دائرے میں تین تحقیقاتی شعبے سرگرم عمل ہیں: 
1۔ شعبۂ فلسفہ؛
2۔ شعبۂ کلام؛
3۔ شعبۂ فلسفۂ اخلاق۔ 
 
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID