فقہ و قانون انسٹی ٹیوٹ کا تعارف 

تمہید 
فقہ و قانون انسٹی ٹیوٹ سنہ 1995ع‍ میں قائم ہوا اور اس کی تحقیقات اسلام کے فقہی اور قانونی معارف و تعلیمات اور منسلکہ علوم سے مختص ہیں۔ 

اس انسٹی ٹیوٹ کے آثار اور کاوشیں منتوع ہیں اور فقہ و حقوق کے کسی خاص شعبے تک محدود نہيں ہیں لیکن معاشرے کی ضروریات، خاص موضوعات میں تحقیقات کے فقدان وغیرہ جیسے معیاروں کی بنا پر، تحقیقی ترجیحات کو متعین اور منظور کیا جاتا ہے اور ان تمام مطالعات کا مشترکہ امتیازی خصوصیت "جدت" ہے۔ 

اس انسٹی ٹیوٹ کی ایک اہم ترین جدت، فلسفۂ فقہ کی تدوین اور تشریح اور انہیں علم فقہ سے منسلک علوم میں ڈھالنے اور مستحکم کرنے سے عبارت ہے۔ 
انسٹی ٹیوٹ نے اپنی علمی حیات کے دوران شیعہ فقہ کی میراث اور حوزہ علمیہ کے فضلاء اور علماء کی خدمات سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ جدید تبدیلیوں اور ارتقائی سفر پر مرکوز اس میراث کا از سر نو مطالعہ کرکے شیعہ فقہ کے مزید کارآمد اور مفید ہونے پر تاکید کرے۔ 


مقاصد
اس انسٹی ٹیوٹ کے اہم ترین مقاصد حسب ذیل ہیں: 

    علم فقہ کی مستعد سازی اور مختلف فردی اور سماجی شعبوں تک اس کی توسیع اور فروغ کی غرض سے اس کے مبادی اور نظری قواعد کی تشریح، تنقیح اور اصلاح؛
    معاصر انسان اور معاشرے کی بنیادی ضرورتوں اور سوالوں کا جواب دینے کے لئے کارآمد فقہی نمونوں کی فراہمی؛ 
    اسلام کے قانونی نظام کی تخلیق و تشریح اور دیگر قانونی نظامات پر اس کی برتری اور فوقیت کا اثبات اور اظہار؛ 
    فقہی اور قانونی تعلیمات کے معقول اور منطقی تجزیئے فراہم کرنا؛
    اسلامی جمہوری نظام کے فقہی اور قانونی مبادی اور اصولوں کی تشریح اور متعلقہ ضرورتوں کا جواب فراہم کرنا؛ 
    اسلامی جمہوری نظام کے فقہی اور قانونی رخنوں، ضرورتوں، زدپذیریوں اور مشکلات کی تلاش اور شناخت؛ 
    اسلامی جمہوری نظام کے قانون ساز، قضائی (Judicial) اور انتظامی اداروں کے فقہی مسائل و مشکلات کی شناخت؛ 
    فقہ و قانون کی حدود میں استنباط کی مبانی اور مبادی، مآخذ، مقاصد، تاریخ اور روشں کی تنقیح اور تشریح؛ 
    مذکورہ موضوعات اور میدانوں میں اسلامی فقہ و قانون کو درپیش چیلنجوں اور سوالات کی شناخت اور عالمانہ جوابدہی کی کوشش؛ 
    استنباط کے میدان کی ضروریات کو علم اصول میں منتقل کرکے انہیں اصولی سانچوں میں ڈھلے ہوئے موضوعات میں تبدیل کرنا؛ 
    اصول الفقہ کی باریک بینانہ مہارتوں کو محض علمی مباحث کی حدود سے آگے بڑھا کر اطلاقی موضوعات میں تبدیل کرنا؛ 
    جدید مسائل کے لئے استنباط کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے علم اصول الفقہ کی نوعیت اور آلاتی (Instrumental) کردار کے دائرے میں اسے کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے ترقی دینا؛ 
    استنباط کے سلسلے میں علم اصول الفقہ کے غیر ناظر اور غیر مفید علم میں تبدیل ہونے کا سدّ باب؛ 
     فقہی قواعد کے علم کو ـ فقہ اور قانون کے تقابلی مباحث کے دائرے میں ـ بار آور اور زرخیز بنانا۔  


فرائض 
مذکورہ بالا اہداف تک پہنچنے کے لئے اس انسٹی ٹیوٹ نے ذیل کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں:
1۔ مطالعہ، تحقیق اور تحقیقاتی منصوبوں کا نفاذ، ذیل کے امور میں: 
الف۔ تاريخ، فلسفہ اور فقہ و اسلامی قوانین کے اصول و مبانی؛ 
ب۔ جدید فقہی اور - فقہی ـ قانونی - موضوعات بالخصوص ان موضوعات میں جن کی اسلامی جمہوری نظام کو ضرورت ہے؛ 
ج۔ قدیم فقہی موضوعات جو مختلف دلائل کی بنا پر نظر ثانی کے محتاج ہیں، بالخصوص ان امور و معاملات میں جن کی اسلامی جمہوری نظام کو ضرورت ہے؛ 
د۔ فقہ سے منسلک علوم، جیسے اصول الفقہ، رجال، حدیث وغیرہ؛ 
ہ. علم فقہ کے فروغ کی ضروریات کے مطابق فقہی قواعد؛ 
و۔ اسلام کا قانونی نظام اور دیگر نظام ہائے قانون کے ساتھ اس کا تقابل اور موازنہ؛ 
ز۔ فقہی اور قانونی نمونے اور کارآمد نظریات؛ 
ح۔ فلسفۂ احکام سے متعلق شبہات کی شناخت اور مخاطبین کے اذہان کو قائل کرنے کے لئے معقول تجزیات؛ 
2۔ اسلامی جمہوری نظام کے فقہی و قانونی خلاؤں، آفتوں اور خطروں، ضرورتوں اور مشکلات کی شناخت؛ 
3۔ فقہی ـ قانونی لحاظ سے نیز مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اسلامی جمہوری نظام کو درپیش خطرات و مشکلات کی شناخت؛ 
4۔ تحقیقاتی پروگراموں اور متعینہ فعالیتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تخصصی ٹیموں کو معرض وجود میں لانا؛
5۔ اطلاع رسانی کے مجموعوں کی تیاری (کتابیات، قاموس، معجم وغیرہ) 
6۔ تربیتی ورکشاپوں، نشستوں، سیمیناروں اور علمی مکالمات کے انعقاد، مطالعات کے مواقع کی فراہمی وغیرہ کے ذریعے انسٹی ٹیوٹ کے محققین کی دانش اور استعداد کی نشوونما کے لئے ماحول سازی؛
7۔ باصلاحیت محققین اور ماہرین و محققین کو تلاش کرنا، ان کی خدمات حاصل کرنا اور حوزہ علمیہ کے فقہی محققین کی نشوونما اور ترقی کے لئے ان کی پشت پناہی کا اہتمام؛ 
8۔ معاشرے اور اسلامی نظام کو فقہ اور اسلامی قوانین کے سلسلے میں درپیش جدید سوالات اور چیلنجوں سے حوزات علمیہ کو مطلع کرنا؛ 
9۔ انسٹی ٹیوٹ کے مقاصد آگے بڑھانے کی غرض سے علمی، تحقیقاتی اور انتظامی اداروں، تنظیموں، انسٹی ٹیوٹس اور مراکز کے ساتھ رابطہ اور تعامل و تعاون؛
10۔ مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد اور متوازی اور تکراری کاموں کے سد باب کی غرض سے اکیڈمی کے ماتحت دوسرے انسٹی ٹیوٹس اور یونٹوں کے ساتھ تعمیری اور فعالانہ تعلق استوار کرنا۔ 

تحقیقی شعبے
1. فلسفۂ اسلامی فقہ و قانون کا شعبہ؛ 
2. فقہ سے منسلک علوم کا شعبہ (اصول الفقہ، فقہ کے قواعد، علم رجال اور علم حدیث)
3. فقہی اور قانونی مسائل کا شعبہ  
 
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID