اخلاق و معنویت انسٹی ٹیوٹ
اخلاقی تعمیر اور تہذیب و تزکیۂ نفس کے سلسلے میں قرآن کریم کی وسیع دعوت اور مکرر تاکیدات دینی اہداف کے درمیان مسئلۂ اخلاق کی نہایت سنجیدہ حیثیت کو نمایاں کرتی ہیں۔ بنی نوع انسان کے سلوک اور رویوں کی عظیم تر سمت بندیوں میں اخلاقی معیاروں کے فیصلہ کن کردار نے انسان کو اخلاقی مفاہیم میں گہرے غور و فکر اور ان کی نئے سرے سے تعریف، اور اخلاقی معیاروں اور قوانین پر نظر ثانی اور ان کی تدوین و تخلیق اور ما بعد اخلاقیات (Meta-ethics) کی قلمرو میں عام بشریاتی اور علمیاتی مفروضات و تصورات کے دوبارہ مطالعے کا فکرمند بنا دیا ہے؛ اور یہ فکرمندی اور دلچسپی اسے علم اندوزی کی پوری تاریخ میں، اخلاقی تفکر پر آمادہ کرتی رہی ہے۔ 
آج جبکہ معاصر دنیا تشیّع کے معنوی و روحانی پیغام کی شدید پیاس میں مبتلا اور اسلامی انقلاب کے نجات بخش ثمرات کے لئے چشم براہ ہے، اخلاقی ـ تربیتی افکار کی تخلیق کے حوالے سے حوزات علمیہ کی 25 سالہ کارکردگی قابل دفاع نہیں ہے اور ایسے حال میں کہ، حوزہ علمیہ میں فقہی اور کلامی تحقیقات خوب پررونق ہیں، اخلاقیات کے شعبے کو سنجیدہ نہيں لیا جاتا۔ 
علم اخلاق، چار اہم اخلاقی مکاتب کے زمرے میں عظیم مفکرین کے ظہور پذیر ہونے کے بعد، ساتویں صدی ہجری سے آج تک کسی بھی انقلابی تبدیلی سے دوچار نہيں ہوا ہے اور اس میں کوئی بھی نئی دریافت یا تخلیقی عمل دیکھنے میں نہيں آیا ہے اور بہت سے دوسرے اسلامی علوم کے برعکس، اس علم میں نظریہ پردازی اور قاعدہ سازی کا عمل صدیوں سے جمود کا شکار ہے۔ 
بےشک حوزہ علمیہ قم اور اسلامی علوم و ثقافت اکیڈمی کا ایک اہم ترین تبلیغی فریضہ اسلامی اخلاق، تربیت اور معنویت کو معاشرے میں گہرائی اور رواج دینا، اس کی شرط اولین، یعنی اسلامی اصولوں پر مبنی اخلاقی افکار کی پیداکاری و تخلیق پر توجہ دینا اور اسلام کے اخلاقی، تعلیمی و تربیتی اور معنوی و روحانی نظام  کا استخراج نیز اخلاقیات، معنویت اور تعلیم و تربیت کے میدان میں ابھرنے والے سوالات کا ہوبہو اور دقیق جواب فراہم کرنا ہے اور اخلاق و معنویت اکیڈمی کا قیام اس ہدف تک پہنچنے کے لئے اہم بنیادی قدم سمجھا جاتا ہے۔ 
اس انسٹی ٹیوٹ نے سنہ 2013ع‍ سے "شعبۂ اخلاق و تربیت" کے نام سے اپنا کام شروع کیا اور سنہ 2017ع‍ میں دو تحقیقاتی شعبوں کی گنجائش کے ساتھ "مرکز" کا عنوان اختیار کرکے اپنی فعالیت کو جاری رکھا۔ سنہ 2017ع‍ سے شعبۂ اسلام و روحانیات کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس نے تین تحقیقی شعبوں کے سانچے میں، "اخلاق و معنویت انسٹی ٹیوٹ" کے عنوان سے اپنی سرگرمیوں کے نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ 

مقاصد:
1۔ علم اخلاق کے مبادی و مبانی اور نظریاتی 
اسلامی علم اخلاق، تعلیم و تربیت اور معنویت کے نظری ڈھانچوں کی تخلیق، تنقیح و تشریح کرنا تا کہ انہیں مستعد بنا کر مختلف فردی اور معاشرتی شعبوں تک توسیع دی جاسکے؛ 
2۔ اسلام کے اخلاقی ـ تربیتی نظام کی تخلیق و ترسیم اور دوسرے اخلاقی ـ تربیتی نظامات کی نسبت اس کی افادیت اور برتری ثابت کرکے دکھانا؛ 
3۔ اسلام کی تربیتی، اخلاقی اور معنوی تعلیمات کا معقول دفاع اور ان شعبوں میں اٹھنے والا سشبہات کا جواب؛ 
4۔ معاصر انسان اور معاشرے کی ضرورتوں کا جواب دینے کے لئے، جدید اخلاق، تربیتی اور معنوی نمونے پیش کرنا؛
5۔ اسلامی جمہوری نظام کے پالیسی ساز مراکز اور ثقافتی اداروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسلامی اخلاقیات، اخلاقی تربیت اور معنویت و روحانیت کے لئے ایک مفید اور کارآمد مرکز کا قیام؛ 
6۔ اسلامی تہذیب کی ضرورت کے مطابق اخلاقی، تربیتی اور معنوی سافٹ ویئر کی تیاری، اور اسلام کے اخلاقی، تربیتی اور معنوی معارف و تعلیمات کے احیاء اور فروغ میں تہذیبی نقطہ نظر پر تاکید۔ 


پالیسیاں
1۔ اسلامی معارف و تعلیمات، اخلاقیات اور اہل بیت(ع) کے تربیتی مکتب نیز اسلامی معنویت کے معتبر و مستند اصولوں اور عناصر کی پابندی؛
2۔ اخلاق، تربیت اور معنویت کے میدان میں اسلامی معاشرے کے عینی مسائل کے حل کا اہتمام اور عصری مسائل اور شبہات کو توجہ دینا؛ 
3۔ اسلامی اخلاق، تربیت اور معنویت کو بالیدہ اور متحرک بنانے کے لئے اندرون و بیرون ملک حوزہ علمیہ سے منسلک نیز دیگر تحقیقاتی مراکز کے ساتھ فعالانہ اور مؤثر رابطے قائم کرنے کو اہمیت دینا اور علمی شخصیات کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا؛ 
4۔ اجتماعی سوچ بچار کے سانچے میں افکار کی پیداکاری (Production of thought) کو مقامیانا اور مطالعاتی امور کو تخصصی ٹیموں کی صورت میں متعین کرنا؛ 
5۔ بَشَری علوم کی استعدادات اور دیگر کمال پسند اور مائل بہ معنویت (روحانیت) ثقافتوں سے فائدہ حاصل کرنا، ان کے تنقیدی مطالعے کے ہمراہ؛ 
6۔ دوسرے علمی ـ تحقیقاتی مراکز کے پروگراموں کے متوازی اور ایک جیسی فعالیتوں کی بازدہرائی سے پرہیز؛ 
7۔ اسلامی جمہوری نظام کی دینی تربیت کے اداروں کے ساتھ فعالانہ تعامل اور تعاون اور اطلاقی تحقیقات کو ممکن بنانے کی غرض سے ان کی ضروریات کی شناخت۔ 

تحقیقاتی شعبے

1۔ شعبۂ اخلاقیات
2۔ شعبۂ تربیت
3۔ شعبۂ اسلام اور معنویاتی مطالعہ
 
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID